PirPiai

وزیراعظم نیویارک سے کیا لائیں گے؟

by 0
2014-09-27
283 Views
وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لئے لندن سے نیویارک پہنچ گئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اُن کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی۔ کسی نے بھی بتی بال کے بنیرے اُتے نہیں رکھی تھی۔ وزیراعظم کے کسی میڈیا منیجر نے اُن کی طرف سے مجھے یہ پیغام نہیں بھجوایا کہ

پچھّے پچھّے آﺅندا میری چال ویہندا آئیں

مَیں اپنے پروگرام کے تحت لندن آیا اور جب وزیراعظم 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر کے 27 ستمبر کو وطن واپسی کے لئے روانہ ہوں گے تو میں اُسی دن نیویارک پہنچ جاﺅں گا۔ وزیراعظم کے اپنے پروگرام ہیں اور میرے اپنے۔ اُن کے اور میرے درمیان شرط نہیں تھی کہ

دیکھیں تم نکلتے ہو کہ پہلے ہم نکلتے ہیں؟

نائن الیون کے بعد جب میں بڑے بیٹے ذوالفقار علی چوہان اور بہو ڈاکٹر عالیہ چوہان سے ملنے کے لئے نیویارک آیا تو اُس وقت وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سیّد انور محمود نے صدر جنرل پرویز مشرف کی میڈیا ٹیم میں شامل کر لیا تھا۔ میاں نواز شریف جب تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنی "IMAGE BUILDING" کا کام وزیراعظم ہاﺅس میں ڈیرے ڈالے اُن بیورو کریٹس کے سپرد کر رکھا ہے جو مستند صحافیوں کے پاس بیٹھنے کے بھی قائل نہیں ہیں۔

وزیراعظم جب لندن پہنچے تو اسلام آباد میں عمران خان اور علامہ القادری کے دھرنے جاری تھے۔ دونوں دھرنا باز لیڈروں کو ووٹروں کی حمایت حاصل نہیں۔ علامہ القادری تو تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ پاکستان میں ان کی کوئی سیاسی اوقات نہیں ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق علامہ القادری نے اپنے دھرنے میں شیر خوار بچوں اور عورتوں سمیت کرائے (بھاڑے) کے انقلابی بُلوا رکھے ہیں۔ یہ الگ بات کہ لندن میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جو مظاہرین ”گو نواز گو“ کے نعرے لگا رہے تھے وہ کرائے کے نہیں تھے۔ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لےگ سے تھا۔ پاکستان کے کسی بھی صدر یا وزیراعظم کے خلاف لندن یا نیویارک میں مظاہرے ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے لئے

جیسی اب ہے میری مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

مجھے ماہ جون 1966ءیاد آ رہا ہے۔ الجزائر میں ایفرو ایشین سربراہی کانفرنس منعقد ہونا تھی کانفرنس میں شرکت کےلئے جب صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اپنے طیارے سے قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اُترے تو اس دور کے تین عظیم لیڈرز عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم چو این لائی، انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو اور متحدہ عرب جمہوریہ کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے صدر پاکستان کا استقبال کیا تھا الجزائر میں آرمی چیف جنرل بولدائن نے صدر بِن باللہ کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا تو ایفروایشین سربراہی کانفرنس منسوخ ہو گئی تھی۔

جب سے پاکستان کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھارت کے ساتھ فدویانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے اور مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے کی پالیسی اپنائی ہے، عالمی برادری خاص طور پر عالم اسلام کی توقیر بہت کم ہو گئی ہے تو امریکہ اور بھارت پاکستان کے حکمرانوں کی عزت کیوں کریں گے؟ نیویارک میں صدر اوباما سے وزیراعظم کی ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہمارے وزیراعظم کو ملاقات کا شرف بخشنے کو تیار ہیں ”نوبت بہ ایں جا رسید“ کہ بھارت کی نیشنل پینھترا پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی سے سفارش کی ہے کہ ”وہ اپنے دورہ نیویارک کے دوران وزیراعظم نواز شریف کو ناشتہ کی دعوت دیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اپنے دورہ نیویارک کے دوران ”نوراتری“ کا تہوار منائیں گے۔ یعنی مسلسل 9 راتوں تک ”دیوی دُرگا ماں“ کی پوجا کریں گے اور صرف پانی پیئیں گے۔ 26 مئی کو شری نریندر مودی نے وزارت عظمی کا حلف اٹھانا تھا قبل ازیں اُن کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کو اس موقع پر شرکت کی دعوت دی گئی۔ پھر اقوام عالم خاص طور پر کشمیری عوام نے

میں کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

کا منظر دیکھا قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ جناب مجید نظامی جب تک حیات رہے پاکستانی حکمرانوں خاص طور پر مسلم لےگی حکمرانوں کو غیرت دلاتے رہے کہ ”بھارت کے قبضے سے پاکستان کی شہ رگ کو چھڑانے میں دیر نہ کریں“ لیکن

مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

وزیراعظم نواز شریف نیویارک پہنچے ہی تھے کہ پاکستان میں متعین بھارتی ہائی کمشنر مسٹر راگھوان یا بھاگوان نے کہا کہ ”اگر پاکستان اور بھارت کے سیکرٹریز خارجہ کی ملاقات نہیں ہو گی تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی!“ بھارتی حکمرانوں اور وزارت خارجہ کے ادنیٰ درجے کے افسروں کو علم ہے کہ قیامت اس لئے نہیں آئے گی کہ پاکستان میں قیامت لانے والے حکمران نہیں ہیں۔ مرزا داغ دہلوی نے کہا تھا کہ
قیامت بن کے اٹھیں گے

بھنبو کا بن کے بیٹھے ہیں“

صدر جنرل ضیا¿الحق کے دور میں میر علی احمد خان تالپور وزیر دفاع تھے۔ جنرل صاحب انہیں برطانیہ کے دورے پر لے گئے۔ صدر صاحب کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے میر علی احمد خان تالپور سے کہا کہ ”آپ پاکستان کے وزیر دفاع ہیں کچھ آپ بھی بولیں!“ تو وزیر دفاع نے کہا کہ ”جو کچھ پوچھنا ہے صدر صاحب سے پوچھو! مجھے تو یہ اس لئے ساتھ لائے ہیں کہ میری بڑی بڑی مونچھیں ہیں!“ وزیراعظم نواز شریف کے تیسرے دور میں پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں ہے۔ جناب سرتاج عزیز وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ ہیں۔ پرانے دور میں جب سرتاج عزیز صاحب باقاعدہ وزیر خارجہ تھے اس وقت بھی انہوں نے مسئلہ کشمیر کا پتھر چوم کو چھوڑ دیا تھا۔ وزیراعظم جناب سرتاج عزیز کو اپنے ساتھ بیرونی دوروں پر لے جاتے ہیں تو اقوام عالم کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ”سرتاج عزیز صاحب میرے خاص الخاص ہیں۔

 نیویارک روانہ ہونے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے میڈیا سے کہا کہ ”پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے۔ قوم اپنی خوشحالی کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو معاف نہیں کرےگی۔ مَیں پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کا ذکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کروں گا۔“ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن یہ بھی تو بتانا ہو گا کہ ترقی ہے کہاں؟ کس طبقے کی ترقی ہو رہی ہے؟ ”تو درون خانہ چہ کردی کہ برونِ خانہ آئی!“ وفاقی وزراءجناب اسحاق ڈار، پرویز رشید اور محترم انوشہ رحمن کے مطابق دھرنوں والوں نے معیشت کا بیڑا غرق اور ملک تباہ کر دیا ہے۔“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تباہ حال ملک جس کی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہو اُس کا وزیراعظم نیویارک سے کیا لائے گا؟
HostGator Web Hosting

More Post

comments powered by Disqus

Recent Comments

Hot Categories