PirPiai

'میں ملالہ نہیں ہوں'

by PirPiai Reporter
2014-11-12
642 Views
پاکستان میں سکولوں کی ایک تنظیم نے پیر کو 'میں ملالہ نہیں ہوں' دن منایا۔
 
یہ دن منانے کا مقصد متنازعہ ناول نگار سلمان رشدی کی حمایت کرنے پر نوجوان نوبل امن انعام یافتہ کی مذمت کرنا ہے۔
 
سترہ سالہ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کیلئے کوششوں پر دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے کچھ حلقوں میں ان کے بارے میں منفی خیالات پائے جاتے ہیں۔
 
ان حلقوں میں ملالہ کو 'مغربی ایجنٹ ' تصور کیا جاتا ہے جو مبینہ طور پر اپنے ملک کو بدنام کرنے کے مشن پر ہیں۔
 
کُل پاکستان نجی سکول فیڈریشن نے گزشتہ سال بھی اپنے ارکان کو ملالہ کی سوانح عمری 'آئی ایم ملالہ' خریدنے سے روک دیا تھا کیونکہ تنظیم کے مطابق کتاب میں 'اسلام اور پاکستان مخالف مواد ' پایا جاتا ہے۔
 
تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی مدد سے لکھی گئی کتاب میں رشدی کیلئے ہمدردی پائی جاتی ہے۔
 
تنظیم کے صدر مرزا کاشف علی نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ' یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملالہ کا رشدی اور تسلیمہ نسرین سے گٹھ جوڑ ہے اور وہ رشدی کے نظریاتی کلب سے بھی قریب ہیں'۔
 
'ہم کتاب کے اس باب کی بھر پور مذمت کرتے ہیں جس میں ملالہ نے اپنے والد کے خیالات کے حوالے سے سلمان رشدی کی کتاب کو آزادی اظہار رائے شمار کیا ہے'۔
 
انہوں نے بتایا کہ آج سیمیناروں، پریس کانفرنسوں کی مدد سے 'میں ملالہ نہیں' دن منایا گیا۔
HostGator Web Hosting

More Post

comments powered by Disqus

Recent Comments

Hot Categories