PirPiai

حالیہ تبصرے

دیگر زمرہ جات

پورے خاندان کا بوجھ اٹھانے والی دلیر بچی


by PirPiai Reporter
2014-11-14
692 Views
یونیسیف کے مطابق چائلڈ لیبر افغانستان میں عام ہے اور وہاں چار سے چودہ سال کی عمر کی سترہ فیصد بچیاں یا تو گھر سے باہر کام کرتی ہیں یا پورا وقت گھر کے کام کرتے ہوئے گزارتی ہیں۔

ان ہی میں سے ایک آٹھ سالہ فاطمہ ہے جو دن بھر میں کچھ ڈالرز ہی کما پاتی ہے اور وہ سب خاندان پر خرچ ہو جاتا ہے جو روزانہ چاول، سبزیاں اور روٹی پر مشتمل غذا کھاتے ہیں، اس کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
 

ہرات کے ایک اسکول کے باہر ہم عمر لڑکیاں موجود ہیں تاہم ان میں سے ایک الگ کھڑی ہے، آٹھ سالہ فاطمہ نے صاف ستھرا یونیفارم نہیں پہن رکھا اور نہ ہی وہ اپنی ساتھیوں کے ساتھ قہقہے لگانے اور کھیلنے میں مصروف ہے، بلکہ وہ ایک اور کام میں محنت کر رہی ہے یعنی دیگر لڑکیوں کو اپنی چھوٹی سی ریڑھی پر آئس کریم فروخت کر رہی ہے، تاکہ اتنے پیسے کما سکے کہ اپنے معذور والد اور خاندان کے دیگر افراد کا پیٹ بھر سکے۔


فاطمہ صبح سات بجے سے سہ پہر چار بجے تک کام کرتی ہے، اس کے طویل دن کا آغاز ایک ہول سیلر سے آئس کریم کے ڈبے لینے سے ہوتا ہے جس کے بعد وہ اپنی ریڑھی کو ہرات کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں دھکیلتی ہوئی اسکول تک لے کر جاتی ہے۔


فاطمہ بھی دیگر بچیوں کی طرح چیختی چلاتی اور خوشی سے اسکول جانا چاہتی ہے مگر وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے۔


فاطمہ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا "میرا واحد اور سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ کچھ رقم کما لوں تاکہ مجھے مزید کام کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور دیگر لڑکیوں کی طرح اسکول جا کر تعلیم حاصل کرسکوں"۔


اس کا کہنا تھا "جب میں اسکول کے سامنے آئس کریم فروخت کررہی ہوتی ہوں اور دیگر بچیوں کو اندر ہنستے ہوئے اور خوش باش دیکھتی ہوں تو میرے اندر شدت سے یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش میں بھی اندر جا سکوں"۔


اس کے والد، ان کی دو بیویاں اور چھ بیٹیاں سب دو کمرے کے خستہ حال کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں جہاں سونے کے لیے ایک بستر اور بہت کم سامان ہے۔


فاطمہ کے والد ابو ظاہر وہیل چیئر پر ہیں جس کی وجہ چار سال قبل پڑوسی ملک ایران میں بطور مزدور کام کے دوران ایک حادثے میں ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے سے ٹانگوں کا کام چھوڑ دینا بنا۔


وہ دن جب ابو ظاہر کچھ بہتر محسوس کر رہے ہوتے ہیں تو موبائل فون کارڈز فروخت کرکے اپنی بیٹی کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے گھر واپس آکر فاطمہ والد کو بستر سے وہیل چیئر تک لے جانے میں مدد کرتی ہے اور اس کے علاوہ وہ ان کے متاثرہ حصوں کی مالش اور صفائی بھی کرتی ہے۔


فاطمہ دن بھر میں کچھ ڈالرز ہی کما پاتی ہے اور وہ سب خاندان پر خرچ ہوجاتا ہے جو روزانہ چاول، سبزیاں اور روٹی پر مشتمل غذا کھاتے ہیں، یہ ایک چھوٹی بچی کے کندھوں پر بہت بڑا بوجھ ہے، فاطمہ کہتی ہے "مجھے آئسکریم بہت پسند ہے مگر میں اسے کھانے کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتی، مجھے غریب ہونا بالکل پسند نہیں"۔
 

مزید پوسٹ

comments powered by Disqus